سیرت اہل بیت علیھم السلام

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب ہجرت اور حضرت علی علیہ السلام

 قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:

ترجمہ:

“انسانوں میں سے وہ بھی ہے جو اپنی جان کو خدا کی رضا کی تلاش میں فروخت کر دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔”

حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت اور دفاع کے لئے کیا قربانی دی تھیں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کس طرح سے دفاع کیا تھا اور حضرت علی علیہ السلام نے اسلام کی بقاء کے لئے کتنی آزمائشات کا مقابلہ کیا تھا۔ یقیناً کسی شاعر نے سچ کہا ہے:

“اگر دنیا میں ابو طالب علیہ السلام اور ان کا بیٹا نہ ہوتا تو دین کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہوتا باپ نے مکہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پناہ دی اور ان کا دفاع کیا اور بیٹے نے یثرب میں موت کے دریا کو عبور کیا۔ کیا کہنا اس کا جس نے ہدایت کے دروازے کھولے اور کیا کہنا اس کا جس پر بلندیوں کا اختتام ہوا۔”

اللہ تعالی نے حضرت علی علیہ السلام کو پیدا ہی اس لیے کیا تھا تاکہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بہترین وزیر اور مددگار ثابت ہوں اور دین اسلام کے بلند درجہ مجاہد ثابت ہوں۔ یقیناً حضرت علی علیہ السلام نے اپنے مقصد تخلیق کو پورا کیا۔ حضرت علی علیہ السلام نے نصرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کھل کر وعدہ کیا تھا یہ وعدہ بچگانا گفتگو پر مبنی نہ تھا آپ علیہ السلام نے یہ وعدہ پوری طرح سے سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ آپ علیہ السلام کے اس وعدہ سے آپ علیہ السلام کی شخصیت اور عبقریت کا اظہار ہوتا ہے اور آپ علیہ السلام نے یہ وعدہ کر کے عملی طور پر لوگوں کو بتایا تھا کہ آپ علیہ السلام کو اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ ہے اور آپ علیہ السلام کو اپنی ذات اور اپنے قلب مطمئن پر پورا اعتماد ہے۔

اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تبلیغ کا عرصہ شروع ہوا تو حضرت علی علیہ السلام قدم قدم پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور ہر طرح کی اذیتیں جھیلتے تھے حالات واقعات کی سختی میں تپ کر آپ علیہ السلام کندن ہوتے گئے اور آپ علیہ السلام کو مسلسل تجربات نے اس قابل بنا دیا تھا کہ آپ علیہ اسلام اسلام کی کشتی کے نا خدا کے مکمل معاون بن سکیں۔ اگر مجھے حضرت علی علیہ السلام کی ذات پر افترا کا خوف نہ ہوتا تو میں یہ کہتا کہ حضرت علی علیہ السلام کا دل دنیا کے تمام انسانوں کے دلوں سے زیادہ قوی تھا اور حضرت علی علیہ السلام انتہائی مضبوط اعصاب کے مالک تھے اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ بات ناممکن تھی کہ انسان ہو اور اس کے دل میں خوف کا کبھی گزر تک نہ ہو اور بڑے خطرات میں گھر کر بھی اس کے اعصاب میں کمزوری واقع نہ ہو اور تاریخ حال و مستقبل بھی اسے مضطرب نہ کر سکے اور وہ ہر غرائز کے تسلط سے آزاد ہی نہ ہو بلکہ غرائز اس کے تسلط میں دکھائی دیں۔

ہر شخص میں حب ذات اور حب حیات کا غریزہ تم پایا جاتا ہے لیکن حضرت علی علیہ السلام وہ عظیم انسان ہیں جو ان غرائز سے بلند وبالا ھیں۔ حضرت علی علیہ السلام میں کتنے بہادر تھے اس کا اندازہ اس روایت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسی نے پوچھا کہ ہے جب حضرت علی علیہ السلام طلحہ بن ابی طلحہ کے مقابلے میں گئے تھے تو اس نے آپ علیہ السلام کو یاقضم کہہ کر خطاب کیا تھا آخر یاقضم سے کیا مراد ہے اور یہ کس واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے؟

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں قیام پذیر تھے تو مشرکین مکہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کے ڈر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینے سے پرہیز کرتے تھے وہ خود تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے نہ آۓ انہوں نے اپنے چھوٹے بچوں سے کہا کہ جب تم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گلی کوچوں میں دیکھو تو ان پر پتھر اور مٹی کے ڈھیلے برساؤ۔

چنانچہ مشرکین مکہ کے بچوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ستایا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا سے ان کے بچوں کی شکایت کی۔حضرت ابو طالب علیہ السلام نے مشرکین مکہ کو بلا کر فرمایا: تمہیں حیا نہیں آتی اب تم نے اپنے بچے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے لگا دیے ہیں۔

مشرکین مکہ نے جواب دیا: ابو طالب علیہ السلام! اگر ہم سے کوئی گستاخی ہوئی ہو تو ہم مجرم ہیں لیکن کیا کریں وہ تو بچے ہیں ہم بچوں کا کیا کر سکتے ہیں؟

حضرت ابو طالب علیہ السلام نے فرمایا: اچھا تم چلے جاؤ کل کلاں میرے پاس شکوہ لے کر نہ آنا۔

مشرکین چلے گئے حضرت ابو طالب علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کو بلا کر فرمایا: اے علی علیہ السلام! تم نے دیکھا کہ مشرکین کے بچوں نے تمہارے سردار کی کس طرح سے توہین کی ہے؟

چناچہ دوسرا دن ہوا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے نکلے اور حضرت علی علیہ السلام بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلے، راستے میں مشرکین کے بچوں نے اپنی عادت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی کی تو حضرت علی علیہ السلام نے ان پر حملہ کیا اور انہیں سخت چوٹیں پہنچائیں۔

بچے روتے ہوئے زخمی حالت میں اپنے ماں باپ کے پاس گئے اور کہا: حضرت علی علیہ السلام نے ہمیں مار مار کر ہمارا بھر کس نکال دیا ہے اور ہمیں زخمی کر دیا ہے۔

مشرکین شکایت لیکر ابو طالب علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا: آپ علیہ السلام کے بیٹے نے ہمارے بیٹوں کو لہو لہان کردیا ہے۔

ابو طالب علیہ السلام نے مسکرا کر کہا: ہمارے کسی بڑے نے تو یہ کام نہیں کیا۔ کیا کریں حضرت علی علیہ السلام چھوٹا بچہ ہے ہم بچوں کا کیا کر سکتے ہیں؟

حضرت علی علیہ السلام نے مشرکین کے بچوں کو لہو لہان کیا تھا اور عربی زبان میں لہو لہان کرنے والے کو قضم کہا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت علی علیہ السلام جنگ بدر میں طلحہ بن ابی طلحہ کے مقابلہ میں گئے تھے تو اسے پچھلا وقت یاد آیا اور اس نے انہیں یا قضم کہہ کر خطاب کیا تھا۔

مشرکین مکہ نے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ختم کرنے کے لیے بہت سے بے بہت سے حربے استعمال کیے لیکن ان کے تمام حربے ناکام ہوئے آخر کار وہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ آپ اپنے بھتیجے کو منع کریں کہ وہ ہمارے خداؤں کو برا بھلا نہ کہے اور ہمارے نوجوانوں کو انکے آباؤ اجداد کے طریقے سے منحرف نہ کرے۔

حضرت ابو طالب علیہ السلام نے ان کی کوئی بات نہ مانی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔ ابو طالب علیہ السلام کی طرف سے مایوس ہونے کے بعد انہوں نے اعصابی جنگ کی اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دھمکیاں دینے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دیوانہ پن اور جادو زدہ ہونے کی تہمتیں عائد کرنے لگے اور موقع ملنے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پتھر برساتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کپڑوں پر غلاظت پھینکتے تھے۔

جب ان حربوں سے کچھ حاصل نہ ہوا تو انہوں نے بنی ہاشم کے معاشی و اقتصادی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور اس ظالمانہ فیصلہ کی عبارت نہ لکھی گئی۔ حضرت ابو طالب علیہ السلام نے جب یہ سختیاں ملاحظہ کیں تو آپ علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے خاندان کو لے کر شعیب ابی طالب میں آگئے جہاں بھوک اور افلاس ان کا مقدر بنی۔ مگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابو طالب علیہ السلام نے ان حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی۔

ترجمہ: “جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے اس کے مطابق استقامت اختیار کریں۔”

(سورہ ہود: آیت 112)

آخرکار تین برس کرب ناک لمحات گزارنے کے بعد مقاطعہ ختم ہوا اور ابو طالب علیہ السلام اپنے خاندان کو لے کر مکہ میں آئے لیکن شعیب ابی طالب علیہ السلام کی سختیوں نے حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا اور ابو طالب علیہ السلام کو سخت کمزور کردیا تھا۔ شعب ابی طالب علیہ السلام سے رہائی کے تھوڑا عرصہ بعد محسنۂ اسلام ام المعصومین حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی وفات ہوئی پھر کچھ دنوں کے بعد حضرت ابو طالب علیہ السلام بھی جہان فانی سے رخصت فرما گئے۔

یہ دونوں ہستیاں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے دو پروں کی مانند تھیں۔ ان کی وفات نے رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غمیںو اندوہ میں مبتلا کر دیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سال کا نام عام الحزن یعنی غم کا سال رکھا تھا ان عظیم مددگاروں کی وفات سے جہاں قلب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صدمہ پہنچا تو وہاں پر مشرکین نے اپنے لیے میدان کو خالی سمجھ لیا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا چراغ گل کر دینا چاہیے۔

حضرت علی علیہ السلام بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر:

اس واقعہ کی تفصیل حسب ذیل ہے:
مشرکین مکہ کا “دارالندوہ” میں اجتماع ہوا اور وہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نمٹنے کے لیے مختلف تجاویز زیر بحث آئیں۔ آخر کار بڑے غور و خوض کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر قبیلہ سے ایک شخص لیا جائے اور وہ گروہ مل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر  شب خون مارتے اور انہیں شہید کر دے۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے 40 افراد کا جتھہ تعینات کیا گیا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے پر جمع ہوگئے اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جبرائیل علیہ السلام کو نازل کیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشرکین کے منصوبہ کی خبر دی اور اس کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا کا یہ پیغام پہنچایا کہ اب مکہ میں رہنا بے سود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ چلے جائیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو بلایا اور فرمایا: اے علی علیہ السلام! روح الامین نے میں مجھے خبر دی ہے کہ قریش نے منصوبہ بنایا ہے کہ وہ آج رات مجھے قتل کر دیں خدا نے یہ حکم دیا ہے کہ میں مکہ چھوڑ دوں اور اسی رات غارثور چلا جاؤں خدا نے مجھے یہ حکم بھی دیا ہے کہ میں تجھے یہ حکم آج کی شب تو نے میرے بستر پر سونا ہے تاکہ حملہ اور یہ سمجھیں کہ میں گھر میں ہوں اور اپنے بستر پر سو رہا ہوں اب تم بتاؤ تمہاری کیا مرضی ہے؟
حضرت علی علیہ السلام کے ایثار پر قربان جائیں۔ انہوں نے یہ نہیں پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا میں محفوظ رہوں گا اس کے بجائے انہوں نے یہ عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا میرے سونے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان بچ جائے گی؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں! یہ سنا تو حضرت علی علیہ السلام مسکرانے لگے اور سجدہ شکر بجا لائے کہ میرے قربانی سے رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان بچ سکتی ہے۔
دنیائے اسلام میں سب سے پہلے سجدہ شکر حضرت علی علیہ السلام نے کیا تھا۔ سجدہ سے فارغ ہوئے تو عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل ہو گی میرے کان، آنکھیں اور دل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو بھی حکم دیں گے میں اس کی تعمیل کروں گا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقاصد کو پورا کروں گا خدا سے درخواست ہے کہ وہ مجھے اپنی توفیقات سے مالا مال فرمائے۔
پھرا حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج رات تم نے میری شبہیہ بن کر سونا ہے آپ علیہ السلام میں آج رات میری  میری چادر اوڑھنی ہے اور اس انداز سے سونا ہے کہ کوئی فرق نہ کر سکے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے ہیں یا علی علیہ السلام۔
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کا امتحان لیتا ہے سب سے زیادہ آزمائشیں انبیاء علیہ السلام کی ہوتی ہیں پھر جو ان کے مشابہ ہو  پھر جو ان کے مشابہ ہوں۔ آج خدا آپ علیہ السلام سے وہی امتحان لے رہا ہے جو اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لیا تھا لہذا صبر کرنا، صبر کرنا۔ یقیناً اللہ کی رحمت نیک کاروں کے قریب ہوتی ہے۔ بعد ازاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے سینہ سے لگایا اور رونے لگے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطرات میں گھرا دیکھ کر حضرت علی علیہ السلام بھی رونے لگے۔
شیر خدا نے پوری جرات و شہامت سے جواب دیا: میں اس بات پر راضی ہوں کہ میری روح اور میری جان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہو۔ مجھے اگر زندگی عزیز ہے تو صرف اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوامر و نواہی کی پابندی کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاہنے والوں کی مدد کروں اور ان سے محبت کروں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جہاد کروں اور اگر یہ مطمح نظر نہ ہوتا تو میں اس دنیا میں ایک لمحہ کے لئے بھی جینا پسند نہ کرتا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تم سو جاؤ اور جب حالات بہتر ہوجائیں تو مدینہ آ جانا۔ الغرض حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غار کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت علی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بستر پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر تان کر سو گئے۔
قریش کے سنگدل قاتلوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر کا گھیراؤ کیا اور انہوں نے دیوار سے کچھ پتھر بھی پھینکے پتھروں سے حضرت علی علیہ السلام کو تکلیف ہوئی لیکن وہ کچھ نہ بولے ، تاکہ کفار کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روانگی کا علم نہ ہو۔
خونخوار قاتل رات کی تاریکی ہی میں حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن ابو لہب نے انہیں منع کیا اور کہا کہ اس گھر میں خواتین بھی موجود ہیں اگر غلطی سے کوئی خاتون قتل ہو گئی تو اس سے پورے قرب میں ہماری رسوائی ہوگی۔
قاتل ساری رات انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ صبح نمودار ہوئی اس وقت وہ تلواریں سونٹ کر گھر میں داخل ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بستر کی طرف بڑھے۔ قتل کے لئے آنے والوں میں خالد بن ولید بھی موجود تھا۔ ابوجہل نے قاتلوں کی جماعت سے کہا کہ اسے نیند کی حالت میں قتل نہ کرو پہلے پتھر مارو تا کہ وہ جاگ جائے اس کے بعد اسے قتل کرو تاکہ اسے قتل کی اذیت کا پورا احساس ہو اور اسے معلوم ہو جائے کہ تلوار کے وار کتنے اذیت ناک ہوتے ہیں۔ قاتلوں نے پتھر پھینکے۔ حضرت علی علیہ السلام نے چہرے سے چادر ہٹائی اور ان سے فرمایا کہ تمہارا کیا کام ہے؟ تم یہاں کیوں آئے ہو؟
قاتلوں نے پہچان لیا کہ یہ تو حضرت علی علیہ السلام ہے اور وہ جسے قتل کرنے آئے تھے وہ تو موجود ہی نہیں ہے۔ ابو جہل نے کہا: لوگو! دیکھو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود فرار کر گیا ہے اور اپنی جگہ پر تمہیں دھوکا دینے کے لیے حضرت علی علیہ السلام کو سلا کر گیا ہے۔ اگر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وعدہ سچا ہوتا کہ خدا ان کا محافظ ہے تو پھر اسے یہاں سے بھاگنے کی کیا ضرورت تھی اور ابن عم کو بستر پر لٹانے کی کیا ضرورت پڑی تھی؟
خونخوار قاتلوں نے پوچھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہاں ہیں؟
شیر خدا نے فرمایا: کیا تم انہیں میرے حوالے کر گئے تھے؟
قاتلوں نے کہا کہ تو نے پوری رات ہمیں دھوکے میں ڈالے رکھا ہم سمجھتے رہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سوئے ہوئے ہیں پھر انہوں نے چاہا کہ حضرت علی علیہ السلام پر تشدد کیا جاۓ۔ ابو لہب نے انہیں منع کیا اور کہا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غار ثور میں پناہ لی اور مسلسل تین دن تک غار ثور میں قیام پذیر رہے حضرت علی علیہ السلام وہاں انہیں کھانا پانی پہنچاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین دنوں کے بعد غار سے باہر نکلے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔
ثعلبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کا ارادہ کیا تو حضرت علی علیہ السلام کو مکہ میں ٹھرایا تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرض ادا کریں اور لوگوں کی امانتیں واپس کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب روانہ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: یا علی علیہ السلام! آپ علیہ السلام میرے بستر پر میری چادر اوڑھ کر سو جائیں خدا نے چاہا تو آپ علیہ السلام کو کوئی اذیت نہ پہنچے گی۔
حضرت علی علیہ السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کی تعمیل کی۔ اللہ تعالی نے اس رات جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام سے فرمایا: میں نے تم دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے لیکن تم میں سے ایک کی عمر دوسرے سے لمبی رکھی ہے کیا تم میں سے لمبی عمر والا اپنی عمر دوسرے کو دینے پر آمادہ ہے؟
دونوں فرشتوں نے زندہ رہنے کو ترجیح دی اللہ تعالی نے اس وقت ان کو وحی فرمائی: تم حضرت علی علیہ السلام ابن ابی طالب علیہ السلام کی مانند کیوں نہ بنے؟ میں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی مرتضی علیہ السلام کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے روانہ ہوچکے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام ان کی جان بچانے کے لیے ان کے بستر پر سو گیا ہے تم دونوں زمین پر جاؤ اور حضرت علی علیہ السلام کو دشمنوں سے بچاؤ۔
حکم خدا سن کر دونوں زمین پر آئے جبرائیل علیہ اسلام حضرت علی علیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہوگئے اور میکائیل علیہ السلام پائنتی کی طرف۔
اس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا:
“تمہیں مبارک ہو اے ابو طالب علیہ السلام کے لعل! آپ علیہ السلام جیسا کون ہو سکتا ہے۔ خدا وند متعال آپ علیہ السلام کے ذریعے سے فرشتوں پر مباہات کر رہا ہے۔”
جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ کی طرف ہجرت سفر تھے تو اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شان علی علیہ السلام کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی:
انسانوں میں وہ بھی ہے جو اللہ کے مرضات کی تلاش میں اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔”
(سورہ بقرہ: آیت 207)
حضرت علی علیہ السلام اپنی اس خدا داد کامیابی پر ہمیشہ فخر کرتے تھے اور اس موضوع پر آپ علیہ السلام نے یہ اشعار بھی فرماۓ تھے:
“میں نے اپنی جان دے کر اس ذات کو بچایا جو تمام انسانوں سے بہتر تھی۔ میں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت بچایا جب کفار ان کے متعلق برا ارادہ رکھتے تھے رب ذوالجلال نے انہیں کفار کی سازش سے محفوظ رکھا۔ میں ساری رات انتظار کرتا رہا کہ وہ مجھے کب قتل کرتے ہیں میں اپنے آپ کو قتل اور مقید ہونے پر آمادہ ہو چکا تھا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ رات غار میں امن سے بسر کی اور انہوں نے خدا کی حفاظت و نگرانی میں گزاری رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تین دن غار میں قیام کیا۔ پھر تیز رفتار اونٹینوں پر سوار ہو کر وہاں سے مدینہ کو روانہ ہوئے۔”
ہجرت سے اسلام کی نئی تاریخ شروع ہوئی اور آپ علیہ السلام کی قربانی اور ایثار کی وجہ سے ہجرت ممکن  ہوئی تو ماننا پڑے گا کہ ہجرت کے بعد اسلام اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کامیابیاں نصیب ہوئیں ان کے پیچھے حضرت علی علیہ السلام کا ایثار کار فرما تھا۔

Add Comment

Click here to post a comment